Thursday, January 23, 2020

Greta Thunberg

America Against Activist

Swedish activist Greta Thunberg lashed out on leaders at World Economic Forum at Davos by saying that we can't pay someone else for planting trees in Africa while at the same time forests like Amazone are burning. She criticised Trump administration's climate record track in response to what U S president said ' She beat me out on Time Magazine, as she was named the person of the year 2019.
It does'nt stop here , Trump's  treasury secrertary  Steven Mnuchin also took a dig at activist on Thursday.
During a news conference Mnuchin said that Thunberg should go to collage and study economics first then advice and teach us what and how to do.
Mnuchin came in the defense of Trump and  said that Trump administration wants clean air , water and environment.
 Alongside warning the leaders at Davos  about the catastrophe of climate change Thunberg also appealed leaders to devist  from fossil fuels.
She stressed that we should do something for environment rightnow instead of in  2050,  2030 or even in 2021. She warned of the aftermath and bad consequences during the programme.
She completed her speech by asking leaders that they might think'' we are inexperienced, but if they won’t do it, they must be accountable to next generation  and tell them why they have given up on the Paris Agreement goals, and knowingly created a climate crisis.

ٹھون برگ کے خطبے سے امریکی حکام برہم  
ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے اپنے خطبے میں عالمی  رہنماؤں کو سویڈش کارکن ٹھون برگ نے سخت تنقید  کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ افریقی ممالک میں درخت لگانے کے لئے کسی اور کو ادائیگی دینے سے  ماحول میں بہتری نہیں آسکتی کیوںکہ  امیزاں جیسے بڑے جنگلات خاکستر ہو رہے ہیں ۔  انہوں نے ٹرمپ انتظامیہ کے آب و ہوا کے ریکارڈ ٹریک پر تنقید کی جس کے جواب میں امریکی صدر نے کہا کہ 'انہوں نے مجھے ٹائم میگزین پر شکست دی ، کیونکہ انہیں سال 2019 کا شخص نامزد کیا گیا تھا۔
امریکی صدر کے بعد امریکہ  کے خزانہ سیکریٹری اسٹیون منوچن نے بھی جمعرات کے روز اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ٹھون برگ کو کسی جامعہ میں داخلہ لینا چاہے اور اس کے بعد ہمیں یہ مشورہ دے کہ ہمیں کیا اور کیسا کرنا چاہے ۔
منچن  نے ٹرمپ انتظامیہ کا دفاع کرتے  ہوئے  کہا کہ امریکی سرکار صاف ہوا ، پانی اور ماحول کی خواہاں ہے۔
 ڈیووس میں قائدین کو موسمیاتی تبدیلی کی تباہ کن تباہی سے متعلق انتباہ کرنے کے ساتھ ساتھ تھونبرگ نے رہنماؤں سے بھی اپیل کی کہ وہ جیواشم ایندھن سے باز آ جائیں۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ ہمیں ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھنے کے لئے 2050 ، 2030 یا 2021 میں کرنے کے بجائے  آج ہی کچھ اقدام آٹھانے چاہے۔ انہوں نے بھگرتے ماحول اور  اس کے خراب نتائج سے بھی اپنے خطبے میں خبردار کیا۔
ٹھونبرگ نے  اپنی تقریر  کے آخر میں کہا کہ وہ سوچتے ہیں کہ شاید ہم ناتجربہ کار  ہیں اور ہمارے ان بیانوں جن میں ہم نے دنیا کو متنبیہ بھی کیا کہ خراب ماحول سے کتنے منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں کو اگر سینجدگی سے نہیں لیں گے تو   انھیں لازمی طور پر ایک دن  اگلی نسل کے سامنے جوابدہ ہونا پڑے گا اور انہیں بتانا ہوگا کہ انہوں نے پیرس معاہدے کے اہداف کو کیوں ترک کیا اور جان بوجھ آب و ہوا کا بحران کیوں پیدا کیا ؟۔