Monday, April 13, 2020

گلوکار و کورونا واٸرس


دنیا بھر میں جہاں عالمی صحت ادارہ (ورلڈ ہیلتھ آرگانیزیشن) اور حکومتوں نے لوگوں کو نظام تنفس کی بیماری (کورونا وائرس) سے بچنے کے لیے  کئی ہدایات جاری کی ہیں۔

 وہیں پوری دنیا میں کئی اداکاروں ، شعراء اور گلوکاروں نے ایک منفرد مہم کا آغاذ کیا ہے۔
فلمی ستاروں کی دنیا میں معروف و مشہور اداکاروں نے سماجی رابطہ کی ویب سائٹس (انستاگرام ، ٹیوٹر، فیس بک) سے اپنے مداحوں کو کورونا وائرس سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر پر عمل آوری کی تلقین کی۔

ہالی ووڈ اور دیگر چینی فلمی ستاروں سے متاثر ہو کر برصغیر میں بھی مختلف اداکاروں و گلوکاروں نے سوشل میڈیا پر اپنے اپنے ویڈیو پیغامات کا اشتراک کیا۔
   سب سے پہلے اس عمل کی شروعات  بھوج پوری گلوکار خوشبو اوتم اور پروین اوتم نے کی۔انہوں نے 6 فروری کو ایک بھوج پوری گانے کو یوٹیوب پہ اپلوڈ کیا۔ اس گانے کا زیادہ اثر  گرچہ بھوج پوری سمجھنے والوں تک ہی محدود رہا لیکن اس سے متاثر ہو کر تیلگو  میں آلاراجو،راگھو رام  اور ایشاتی نے ایک نغمہ کو بھی گایا۔یہ نغمہ ٹالی وڈ مئراپاکائے نامی یوٹیوب چینل پر دستیاب ہے۔  
 ان نغموں کی بڑتی مقبولیت اور ہر جگہ کورونا وائرس کے تذکرے کی وجہ سے مزید گلوکاروں نے بھی اس موقع پر خوبصورت آوازوں میں اس وبأ کے تعلق سے لوگوں میں بیداری پیدا کرنا شروع کر دیا ۔یہ سلسلہ چلتا رہا لیکن معروف گلوکا ر بابا سئگل اور  علی ظفر کی وجہ سے یہ روایت بالی وڈ اور پاکستانی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں بھی  شروع ہو گئ۔

 
 پاکستان کے مشہور اداکار و گلوکار علی ظفر نے اور بابا سئگل نے ایک ہی دن اپنے اپنے یوٹیوب چینلز پر اپنے گانوں کا اشتراک کیا مگر علی ظفر کا نغمہ پورے برصغیر میں آگ کی طرح پھیل گیا۔
کورونا وائرس کے سبب لوگوں کو ذہنی مرض میں مبتلا ہوتے دیکھ کر علی ظفر نے مشہور  نغمہ ' کوکو کورنیا' کے طرز پر اس نغمہ کا ایک ریمکس تیار کیا ہے۔

انہوں نے اس گانے کی اصل دھن میں رد و بدل کر کے اس کو کورونا سے منسلک کر کے تیار کرنے کے بعد اس کا اشتراک کیا۔

اس گانے کے شروعاتی بول کچھ یوں ہے

 ''میرے خیالوں پہ چھایا ہے اک وائرس مت والا سا،، اوپر سے شرمیلا سا ہر شیطان کا سالا سا،، رہتا ہے وہ پاس کہیں  سن لو یہ بکواس نہیں ،،،کوکو کورینا،،کوکو کورینا''۔

اس گانے کا اشتراک انہوں نے اپنی یوٹیوب چینل پر کیا اور مداحوں کو یقین دلایا کہ اگر وہ  عالم ادارے صحت اور حکومت کی طرف سے جاری کی گئی ہدایات پر عمل کریں گے تو انہیں یہ وبا چھو بھی نہیں سکتی۔

لوگوں نے ان کی اس سعی کو کافی پسند کیا اور اسکی سوشل میڈیا پر خوب ستائش کی۔

وہیں پاکستانی گلوکار علی ظفر  اور بابا سئگل کے بعد بھارت کےکئی گلوکاروں نے اپنے اپنے انداز میں لوگوں کو بہ ذریعہ موسیقی بیدار کرنے کی کوششیں شروع کی۔
کاوی سنگھ نے رومل مئوزک بکتی ساگر نامی ایک چینل پر 21 مارچ کو ایک نغمہ رلیز کیا جس میں انہوں نے لوگوں سے التماس کیا کہ وہ ذہینی طور پر مضبوط رہے۔ اس نغمہ کے بول کچھ یوں ہے
::مشکل کی اس گھڑی میں بلکل نہ گھبرانا ہے، کورونا وائرس کو دنیا سے مل کےمار بھگانا ہے:::
 
بھارت کے مشہور ریپ اسٹار  بوہی میا نے گلوکار دیویکا کے ساتھ مل کر اپنے مداحوں کی بوریت کو دور کرنے کے لیے انہیں ایک نئے گانے کا تحفہ دیا۔

چونکہ یہ گانا علی ظفر کے نغمہ کی طرح بلاواسطہ  کورونا  سے متعلق نہیں تھا مگر مداحوں نے اس گانے کے بارے میں کمنٹ بکس میں کافی ستائش کی ۔

لاک ڈاون کے دوران روز مرہ کی زندگی کے معمول میں اچانک دلوں کو مسخر کرنے والے اس گانے کے بول کچھ یوں ہیں۔

 ''اک تیرا پیار ہاں دے دے مجھے،کھو گیا میرا دل پھر ایک بار،، پھر یاد آیا اک تیرا پیار''

اس گانے کو 24 مارچ کو یوٹیوب پر رلیز کیا گیا ہے۔
اس گانے کے بعد پاکستانی گلوکار جواد احمد نے جان کی بازی مارنے والے ان پیشہ وار افراد کو جراج تحسین پیش کیا، جو اس وبأ کے دوران لوگوں کی خدمت کے لے حاظر رہتے ہیں۔

یہ گانا گرچہ پاکستان میں فرنٹ لائن میڈیکل اسٹاپ میں کام کرنے والے جان بازوں لے لیے سرشار کیا گیا ہے مگر بھارت میں اس نغمہ کو پاکستان سے کئی زیادہ پسند کیا گیا اور کمنٹ بکس  میں متعدد انٹرنٹ صارفین نے اسے پوری دنیا کے طبیبوں و نرسوں کے لے جذبہ میں مزید اضافہ کرنے کا ذریعہ قرار دیا
ان سب سے متاثر ہو کر کئی گلوکاروں نے اپنے مداحوں کو اس لاک ڈاؤن کے وقت اپنی آوازوں سے تسکین پہنچانے کا عزم کیا اور نئے و پرانے گانوں کو مختلف سماجی  رابطوں کی وئب سائٹس پر نشر کرنے کا عمل شروع کیا ہے۔

جن گلوکاروں  نے لاک ڈاؤن کےبدستور اپنے مداحوں کو اپنے آواز سے فیض یاب کیا ان میں  سر فہرست  یشمہ گِل(عذاب ہے یہ) ،رفتار( مؤ)،آیاز ریپر(کورونا وائرس نے کیا پریشاں)، بادشاہ( گیندہ پھول) کا نام ہے

 

No comments:

Post a Comment